بسم اللہ الرحمن الرحیم

تاریخ اسلام کے سیاہ ترین ایام رسول اکرم ﷺ کے وصال کے بعد شروع ہو گئے کہ جب خانہ وحی پر حملہ کیا گیا۔   تاریخ میں ملتا ہے کہ  رسولﷺ کی لخت جگرجناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر پر امت آگ لگانے آگئی اور مولا علی (علیہ السلام)  سے بیعت کا مطالبہ کیا، اور جب مولا علی (علیہ السلام)  نے ظالم کی بیعت سے انکار کیا تو ظالمین  نے گھر کو آگ لگا دی بلکہ  جس  در پر رسول اللہ ﷺ آکر سلام کرتے تھے  اس کو  توڑ کر گھر میں داخل ہو گئے۔ اس کشمکش کے دوران مدافع حریم ولایت سیدہ کونین حضرت زہرا (علیہا السلام) اپنے گھر کے دروازہ  کے پیچھے کھڑی تھیں اور  دشمنوں کو روکے ہوئے تھیں اسی اثنا میں ایک ظالم نے دروازے پر لات ماری  اور سیدۃ نساء العالمین (علیہا السلام) در و دیوار کے درمیان  آگئیں اور آپ شدیدا زخمی ہو گئیں جسکے نتیجہ میں آپ کے شکم مبارک میں حضرت محسن بن علی (علیہ السلام) شہید ہو گئے[1]۔

 

ربیع الاول کے ابتدائی ایام  نہایت حزن  و ملال کے دن ہیں کہ جنکو ’ایام  محسنیہ‘  کے نام سے بھی یاد کیا  جاتا ہے  ۲۸ صفر  رسول اکرم ﷺ کی شہادت  کے بعد سے مظالم کا سلسلہ شروع ہو گیا، مولا علی (علیہ السلام) کے گلے میں رسن باندھنا، حضرت  زہرا (سلام اللہ علیہا) کے گھر پر حملہ کرنا، حضرت محسن (علیہ السلام) کی شہادت، سقیفہ کی آڑ میں ولایت اہلبیت (علیہم السلام) کا انکار کرنا، وغیرہ جیسے مظالم ڈھائے گئے۔

 

ابن قولویہ اپنی مشہور کتاب کامل الزیارات  میں  ایک حدیث نقل کرتے ہیں کہ قیامت  کے دن جب سب کا حساب و کتاب شروع ہو گا تو  رسول اللہ ﷺ کی اولاد میں  سے سب سے پہلے حضرت محسن (علیہ السلام)  کے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور انکے قاتل کو سزا دی جائے گی اور اسکے بعد قنفذ کو سزا دی جائے گی[2]۔  

 

پروردگار عالم امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ) کے ظہور میں تعجیل فرمائے اور حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کے قاتلین کو انکے کیفرکردار تک پہنچائے۔


[1] شهرستانی، الملل والنحل، ج۱، ص۵۷-۵۸؛
ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغۃ، ج۱۴، ص۱۹۲–۱۹۳.

[2]  ابن قولویہ، کامل الزیارات، النص، ص۳۳۴