بسم اللہ الرحمن الرحیم

۹ ربیع الاول  عید اور خوشی منانے کا دن ہے، اس  دن کی خاص اہمیت اس لئے بھی ہے کہ متعدد راوایات میں اس دن کو اہمیت اور عظمت کے ساتھ یاد کیا گیا ہے۔ امام علی (علیہ السلام) سے روایت منقول ہے کہ آپ نےحذیفہ سے فرمایا کہ خدا کی قسم یہ وہی دن ہے کہ اللہ نے اس دن کو آل رسول  (علیہم السلام) کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا ہے اور مجھے اس دن کے بہتّر نام معلوم ہیں، اس دن کو دوسری عید غدیر، ہدایت کا دن، برکت کا دن، اللہ کی بڑی عید، قبولیت دعا کا دن، شیعوں کی خوشی کا دن، فخر کرنے کا دن، اعمال کی قبولیت کا دن۔۔۔ و غیرہ[1]  حضرت (علیہ السلام) نے  اس دن کے نام اور فضیلتیں گنوائیں  اور پھر حذیفہ کہتے ہیں کہ  میں حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے محضر سے اٹھا  اور یہ سوچ رہا تھا کہ آج سے قبل جن اعمال کے ذریعہ میں ثواب  کی امید کرتا تھا اگر اس میں سے مجھے کچھ نہ ملے سوائے اس دن کی فضیلت کے تب بھی  یہ میرے لئے بہتر ہے۔

بے شک  ۹ ربیع الاول ۲ مہینہ ۸ دن کے ایام عزا کے اتمام کا بھی دن ہے یعنی پہلی محرم سے  آٹھ ربیع الاول تک کہ جسمیں امام حسین (علیہ السلام) اور انکے اصحاب باوفا کی شہادت، امام حسن(علیہ السلام) کی شہادت حضرت ختمی مرتبت رسول اللہ ﷺ کی شہادت، امام سجاد (علیہ السلام) کی شہادت، امام رضا ( علیہ السلام) کی شہادت اور  امام حسن  عسکری(علیہ السلام) کی شہادت کے ایام  گزرے۔

اس دن کی خوشی کے بہت سے اسباب   ہو سکتے ہیں  لیکن بغیر کسی شک و  شبہہ  کےجو سب سے اہم بات ہے وہ یہ کہ اس دن اہلبیت (علیہم السلام) کی خوشی کا دن ہے اور روایت کے مطابق اہلبیت (علیہم السلام)   کےشیعہ انکی خوشی میں خوش اور انکے غم میں غمگین رہتے ہیں۔ لہذا تاکید کی جاتی ہے کہ اس دن سوگ بڑہایا جائے اور اہلبیت (علیہم السلام) سے محبت  کا اظہا  کر کے خوشی منائی جائے  اور انکے دشمنوں سےدوری اختیار کی جائے۔

پروردگار عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہم سب کو دین اسلام پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے قلوب کو اہلبیت اطہار (علیہم السلام) کی ولایت  سے سرشار فرمادے اور ہم سب کو امام زمانہ (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے اعوان اور انصار  میں شامل فرمائے۔

 


[1] بحار الانوار،جلد 31 ص 127