رسول_اللہ ﷺ کے آخری_وصی اور شیعوں کے آخری امام حضرت بقیۃ_اللہ الاعظم حجۃ_بن_الحسن_المہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی ولادت باسعادت ۱۵ شعبان کی صبح سن ۲۵۵ ہجری سامرا میں ہوئی۔آپ کی ولادت سے اللہ کا وعدہ ، رسول اکرم ﷺ  اور ائمہ اطہار کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔

امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کا نام نامی وہی ہے جو رسول اکرمﷺ کا ہےاور آپ کی کنیت بھی رسول اللہ ﷺ کی مانند ابوالقاسم ہے۔ آپ (علیہ السلام) کے والد ماجد امام_حسن_عسکری (علیہ السلام) اور والدہ ماجدہ جناب نرجس_خاتون ہیں۔

 امام مہدی (عجل اللہ فرجہ) کی زندگی کو چار اہم حصوں پر تقسیم کیا جاتاہے: ولادت سے غیبت  تک، غیبت_صغری ، غیبت_کبریٰ  اور آپ کی حکومت۔

امام زمانہ (عجل اللہ فرجہ) کی حکومت میں دین کو حقیقی عزت ملے گی اور ہر طرف عدل و انصاف کا بول بالا ہو گا ظلم و جور کا خاتمہ ہوگااور کسی پر بھی ذرہ برابر بھی ظلم نہیں ہو گا۔ یہ ایسی حکومت ہو گی کہ جسکو دیکھنے کے لئے انبیاء نے دعا کی ہے۔

روایات کے مطابق امام زمانہ (عجل اللہ فرجہ) کے ظہور کا انتظار بہترین عبادت ہے اور انسان کو چاہئے کہ اس وقت کو درک کرنے کا شوق رکھے کیونکہ امام صادق (علیہ السلام)  نے فرمایا  :اگر میں انکو (امام مہدی عجل اللہ فرجہ)درک کر لوں تو میں پوری زندگی انکی خدمت کروں۔

پروردگار ہم سبکو امام زمانہ (عجل اللہ فرجہ) کے ظہور کو درک کرنے اور انکی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ تمام مومنین کی خدمت میں تبریک پیش کرتا ہے۔