آج  پہلی ذی الحجہ ہے، نور سے نور کی ملاقات ہے اور اس ملاقات سے کائنات روشن ہو رہی ہے۔ یہ  مرج البحرین یلتقیان کی تفسیر کا دن ہے۔ آج  ابوطالب علیہ السلام کے لال اور  رسول اللہ ﷺ کی لخت جگر کے عقد با سعادت کی تاریخ ہے۔

 

 مولا علی  علیہ السلام اور  حضرت فاطمہ الزہرا علیہا السلام کی شادی ایک  امر الہی تھا۔

تاریخ میں ملتا ہے کہ جب بھی  قریش کے کسی سردار کے گھر سے شہزادی فاطمہ علیہا السلام کے لئے رشتہ آتا تھا تو رسول گرامی ﷺ فرماتے تھے کہ میری بیٹی فاطمہ (علیہا السلام) کی  شادی کا اذن اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جہاں وہ چاہے گا وہاں ہو گی۔ لیکن جب امام علی علیہ السلام کی طرف سے شہزادی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا کی طرف سے رشتہ آیا تو رسول اللہ ﷺ بہت مسرور ہوئے اور اس رشتہ کی تجویز کو جناب فاطمہ علیہا السلام کے سامنے بیان کیا۔ شہزادی  زہرا علیہا السلام  جو کہ  شرم و  حیا کا پیکر ہیں اپنی خاموشی سے رضایت کا اظہار فرمایا۔

 روایت میں   ملتا ہے کہ  رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک دن اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی جانب سے ایک  فرشتہ نازل ہوا اور مجھ سے کہا کہ خداوند عالم آپ پر  درود  و  اسلام بھیجتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے  عرش پر  علی علیہ السلام اور فاطمہ علیہا سلامٓ  کا عقد پڑھ د یا ہے اور آپ زمین پر بھی ان دونو کے درمیان عقد پڑھ دیں...اور بہت جلد ان دونوں سے  دو بیٹے پیدا ہوں گے کہ جو  جنت کے جوانوں کے سردار ہوں گے۔ (عیون أخبار الرضا ؑ، شیخ الصدوق، ج ۱، ص۳۰)

 

 امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: لَوْلا انَّ اللَّهَ خَلَقَ امْيرَالْمُؤْمِنينَ عليه‌السلام لِفاطِمَةَ عليهاالسلام ما كانَ لَها كُفْوٌ عَلَى الْأَرْضِ

اگر اللہ تعالیٰ امیرالمومنین علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا تو فاطمہ الزہرا علیہا السلام کے لئے روی زمین پر کوئی کفو نہ ہوتا۔

بحارالأنوار، ج 43، ص 97، ح 6