بسم اللہ الرحمن الرحیم

حضرت زینب سلام اللہ علیہا  امام علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام‌ اللہ علیہا کی بیٹی ہیں۔ احادیث کے مطابق حضرت زینب علیہا السلام کا نام پیغمبر اسلامؐﷺ نے انتخاب کیا تھا، جس کو لغت میں "نیک منظر درخت" کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے دوسرے معنی "زین أَب" یعنی "باپ کی زینت" کے ہیں۔

 امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے دور خلافت میں آپ کوفہ میں خواتین کے لئے قرآن کی تفسیر کا درس دیتی تھیں۔اہلبیت علیہم السلام کے نزدیک آپ کا بہت عظیم مقام ہے اور آپ کے لئے امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ ایسی عالمہ ہیں کہ جنکا کوئی معلم نہیں ہے۔

اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے لئے جناب زینب کی بمایاں خدمات ہیں۔ اسلام زندہ ہوتا ہے کربلا سے اور کربلا زندہ ہے حضرت زینب (سلام اللہ علیہا ) سے!

آج  ۱۵ رجب کو حضرت زینب (علیہا السلام) اس دنیا سے رخصت ہو گئیں لیکن آپ کا پیغام ہمیشہ باقی رہے گا۔

نقل ہوا ہے کہ جب ابن عباس نے چاہا کہ امام حسین (علیہ السلام) کو کربلا جانے سے روکیں اور عرض کیا کہ کم از کم بچوں اور عورتوں کو ساتھ نہ لے جائیں،لیکن جب حضرت زینب(علیہا السلام) نے یہ بات سنی تو جواب دیا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے سید و سردار تنہا اس سفر پر جائیں اور ہم یہاں رہ جائیں، خدا کی قسم ہم انکے ساتھ زندہ ہیں اور انہیں کے ساتھ مریں گےکیوں کہ اس دنیا میں ان کے سوا ہمارا کوئی نہیں۔

اور پھر اسی جذبہ کو کربلا کے میدان میں دیکھایا اور کوفہ و شام کے بازاروں میں بھی بتایا کہ امامت اور ولایت کا عقیدہ کتنا قیمتی ہے اور کس طرح اس عقیدہ کی حفاظت کرنا ہے۔

قال الرسول صلي‌الله‌عليه‌وآله وسلم:

مَن بَكي عَلي مُصابِ هذِهِ البِنتِ (زَينَبَ بِنتِ عَلِيّ‌ عليها‌السلام) كانَ كَمَن بَكي عَلي أخَوَيهَا الحَسَنِ و الحُسَينِ‌ عليهما‌السلام

جس نےاس دختر  (زینب بنت علی علیہا السلام) کی مصیبتوں پر گریہ کیا اس نے گویا اس کے بھائیوں حسن اور حسین (علیہما السلام) پر گریہ کیا۔ (وفيات الأئمۃ، ص ۴۳۱.)

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ صبر و استقامت کی مثال، پاسبان ولایت، شریکۃ الحسین(علیہ السلام) حضرت زینب (علیہا السلام) کی شہادت پر  تعزیت پیش کرتا ہے۔ خداوند عالم کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو اس دنیا میں حضرت زینب (علیہا السلام) کا پیروکار بننے کی توفیق عطا کرے اور آخرت میں شہزادی زینب (علیہا السلام) کی شفاعت نصیب فرمائے۔