بسم اللہ الرحمن الرحیم

نام اور القاب

حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) کی ولادت با سعادت مدینہ  منورہ میں ۵ جمادی الاول۵ہجری قمری میں ہوئی ۔ امیر المومین  علی(علیہ السلام) کی بیٹی جو کہ انکے لئیے زینت تھیں کا نام نامی خود رسول اکرمﷺ نے زینب رکھا۔

حضرت زینب(علیہا السلام) کے نام اور القاب سے  اندازہ ہواور القاب سے تا کہ ائمہ معصومین (علیہم السلام)  کے نزدیک آپ کی کتنی عظمت و جلالت تھی۔ آپ کے القاب میں سے عقیلہ نبی ہاشم، عالمہ غیر معلمہ، کاماشم، عالمہ لہ، فاضلہ مشہور ہیں۔

یقینا  یہ دن خاندان  عصمت و طہارت (علیہم السلام)کے لئے خوشی کا دن ہےاور اسی لئے اہلبیت (علیہم السلام) کے شیعہ بھی مسرور ہیں کیونکہ آج علی (علیہ السلام) اور فاطمہ (علیہا السلام) کے گھر میں محبوبہ مصطفی، قرۃ عین مرتضی، نائبۃ الزہرا اور شریکئہ خامس آل عبا ،حضرت زینب کبری سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی ہے۔

حضرت زینب کا علم

اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی تربیت صاحب منبر سلونی نے کی تھی لہذا آپ کے علم کا مرتبہ بھی اسی درجہ کمال پر ہے اور اسی لئے امام معصوم حضرت سجاد (علیہ السلام) نے فرمایا[أَنْتِ بِحَمْدِ اللَّهِ عَالِمَةٌ غَيْرُ مُعَلَّمَةٍ فَهِمَةٌ غَيْرُ مُفَهَّمَة]‏  اے پھوپی امّاں آپ بحمد اللہ ایسی عالمہ ہیں کہ جسکا کوئی استاد نہیں اور ایسی با فہم ہیں کہ آپ کو کسی سمجھانے والے کی ضرورت نہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا(علیہا السلام)کے بعد آپ نے ہی مسند علمی کو سمبھالا شہر مدینہ  ہو یا کوفہ خواتین کے درمیان علمی محافل کو سجائے رکھا۔

شہر کوفہ آپ کی دوخصوصیات کو کبھی نہیں بھول سکتاایک آپ کے درس و تدریس کا سلسلہ کہ جہاں علم تفسیر قرآن، احکام شریعت اور آداب اسلامی  کی تعلیم دی جاتی تھی اور دوسری وہ یاد کہ جب اسی شہر میں آپ اسیر کر کے لائی گئیں تھیں۔آپ نے پوری عمر علم و معرفت کے چراغ روش کئے اور لوگوں کو گمراہی سے نجات دلائی۔

پاسبان ولایت اور محافظ امامت

حضرت زینب(سلام اللہ علیہا) کی زندگانی میں بے شمار ایسے گوشہ ہیں کہ جہاں سیرت فاطمی(علیہاالسلام)واضح طور پر نمایاں ہے۔حضرت زینب (علیہا السلام)نے بھی اپنی والدہ ماجدہ  کی طرح اپنے وقت کے امام، امام علی بن حسین (علیہ السلام)    کی حفاظت کی اور اپنے قت کے ظالم حکمران کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر کہ ولایت کی پاسبانی کی کہ جسکی روشن مثال واقعہ کربلا ، اور اسکے بعدکوفہ اور شام کی اسیری ہے۔

آخر میں شہزادی زینب (علیہا السلام) سے منقول ایک حدیث پیش خدمت ہے۔ حضرت زینب (علیہا السلام) نے اپنی والدہ ماجدہ فاطمہ زہرا (سلام اللہ علیہا  )سے نقل فرمایا ہے کہ :

 [إنَّ السَّعیدَ کُلَّ السَّعیدِ، حَقَّ السَّعیدِ مَنْ احَبَّ عَلیّاً فی حَیاتِهِ وَ بَعْدَ مَوْتِهِ.]

بے شک کامل سعادت اور حقیقی سعادت اسکے لئے ہے کہ جوامام علی (علیہ السلام)  کی زندگی میں اور شہادت کے بعد بھی ان سے محبت کرتا رہے۔( الأمالی شیخ صدوق ،جلد۱، صفحہ۱۸۲)

پروردگا عالم  ہم سب کو زینبی کردار (علیہا السلام)پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔