🔳  امام کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد  امام رضا علیہ السلام ۳۵ سال کی عمر میں  امامت کے مقدس منصب پر فائز ہوئے۔ امام رضا علیہ السلام نے تقریبا ۲۰ سال امت کی راہنمائی کی اور امامت کے فرائض انجام دئے جس میں سے ۱۷ سال  مدینہ میں اور آخری کے ۳ سال  خراسان میں گزرے۔  اس دوران لوگوں کی محبت امام رضا علیہ السلام سے بڑھتی رہی  اور امام علیہ السلام کی اس مقبولیت سے  مامون عباسی پریشان تھا ، جسکے نتیجہ میں امام کو  شہید کروا دیا۔

 

◾️ آٹھویں امام کو رضا کیوں کہتے ہیں؟

 امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد  کو اللہ تعالیٰ نے  رضا کے نام سے نوازا ہے، کیونکہ وہ آسمان پر اللہ کے محبوب ہیں اور زمین پر رسول اللہ ﷺ ا اور اہلبیت کے پسندیدہ ہیں۔

◾️ امام رضا علیہ السلام کی زیارت کی فضیلت

۱- امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا کہ امام ہشتم کی زیارت کا ثواب  ستّر ہزار مقبول حج کے برابر ہے۔ ( کافی، ج۴، ص۵۸۵)

۲- رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جو بھی میرے جگر کے ٹکڑے کی خراسان میں زیارت کرے گا اللہ اسکے  رنج و غم کو دور کر دے گا۔ ( عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۲۵۷)

۳-امام رضا علیہ السلام  نے فرمایاجو بھی غربت کے عالم میں ہماری زیارت کرے گا خداوند عالم اسکو ہمارے ساتھ محشور کرے گا اور وہ اعلیٰ مراتب میں ہمارے ساتھ ہو گا۔ (من لایحضره الفقیہ، ج ۲، ص ۵۸۳)

۴- امام کاظم علیہ السلام نے فرمایا جسنے بھی میرے بیٹے کی زیارت کی اس پر جنت واجب ہے۔ (تهذیب،ج۶، ص۹۷)

 

◾️ امام کی شہادت

ایک روز   مامون عباسی نے امام رضا علیہ السلام کو دربار میں بلایا اور آپ سے انگور نوش کرنے پر اصرار کیا، امام علیہ السلام نے انکار کیا تو اسنے امام علیہ السلام سے کہا کہ کیا آپ کو مجھ پر شک ہے اور خود کچھ انگور جن میں زہر نہیں تھا وہ کھا لئے جب امام علیہ السلام کو مجبور کر دیا تو امام نے انگور کا ایک دانہ تناول فرمایا اور وہاں سے چلنے لگے ، مامون نے سوال کیا کہ آپ کہاں جا رہے ہیں تو امام نے فرمایا جہاں تو بھیجنا چاہتا ہے وہیں جا رہا ہوں۔  امام  علیہ السلام کے صحابی  اباصلت فرماتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے اپنے سر کو کپڑے سے ڈھانک لیا تھا اور اس زہر آلود انگور کی وجہ سے امام رضا علیہ السلام کی شہادت ہوئی۔

 

امام رضا علیه‌السلام

مَن جَلَسَ مَجلِسا یُحیى فیهِ أمرُنا، لَم یَمُت قَلبُهُ یَومَ تَموتُ القُلوُبُ

جو بھی ایسی مجلس میں شرکت کرے گا کہ جہاں ہمارے امر کو زندہ کیا جائے، اسکا دل زندہ رہے گا اس دن جب سب کے دل مردہ ہوں گے۔


 وسائل الشیعہ، ج ۴۴، ص ۲۷۸