بسم اللہ الرحمن الرحیم

علی بن محمد (علیہ السلام)، امام علی نقی ؑ کے نام سے مشہور، نویں امام امام محمد تقی (علیہ السلام) کے فرزند اور شیعوں کے دسویں امام ہیں۔ آپؑ سن 220 سے 254 ہجری یعنی 34 برس تک امامت کے منصب پر فائز رہے۔ دوران امامت آپ کی زندگی کے اکثر ایام سامرا میں عباسی حکمرانوں کے زیر نگرانی گزرے ہیں۔ آپؑ متعدد عباسی حکمرانوں کے ہم عصر تھے جن میں اہم ترین متوکل عباسی تھا۔

آپ کا نام گرامی علی اور لقب،ہادی، نقی، نجیب ،مرتضی ، ناصح ،عالم ، امین ،مؤتمن ، منتجب ، اور طیب ہیں، البتہ ہادی اور نقی معروف ترین القاب میں سے ہیں،آنحضرت کی کنیت " ابو الحسن " ہے اور یہ کنیت چار اماموں یعنی امام علی ابن ابی طالب ،امام موسی ابن جعفر ،امام رضا علیہم السلام کیلئے استعمال ہوئی ہے ، ابو الحسن کی کنیت بغیر کسی قید کے صرف امام علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے لۓ استعمال ہوتی ہے اور امام موسی بن جعفر علیہ السلام کو ابو الحسن اول ،امام رضا علیہ السلام کو ابو الحسن الثانی، اور امام علی النقی علیہ السلام کو ابو الحسن الثالث کہا جاتا ہے۔

احمد بن داود سے روایت ہے کہ: میرے پاس بہت زیادہ مقدار میں خمس اور دیگر رقومات جمع ہو گئی تھیں اور میں اس  امانت کو امام ہادی (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے عازم سفر ہوا ، راستہ میں مجھے ایک سوار ملا جسنے مجھ کو روک کر ایک خط دیا اور کہا کہ یہ خط تمہارے مولا امام علی النقی (علیہ السلام) کی طرف سے ہے  اور اس خط میں تمہارے لئے پیغام ہے۔

خط میں لکھا تھا: اے داوود آج کی رات میری آخری رات ہے اور میں سوئے الہی جا رہا ہوں لہذا تم احتیاط سے کام لینا اور میرے فرزند حسن (علیہ السلام) کے پیغام کے منتظر رہنا۔

 احمد بن داود کہتے ہیں کہ اس ناگوار خبر کو سننے کے بعد بہت افسوس ہوا اور بہت گریہ کیا۔

امام (علیہ السلام) نے حق فرمایا تھا اور تین رجب سن ۲۵۴ ہجری کو آپ (علیہ السلام) کی شہادت ہو گئی۔ وقت کے حاکم معتمد عباسی نے امام (علیہ السلام) کو نہایت مظلومیت اور غربت کے عالم میں شہید کروادیا اور تمام شیعیان کو سوگوار کر دیا۔

قالَ الإمامُ الهادی علیه‌السلام: اَلْجَهْلُ وَ اَلْبُخْلُ أَذَمُّ اَلْأَخْلاَقِ

امام علی النقی علیہ السلام نے فرمایا:جہالت اور کنجوسی سب سے بری اخلاقی صفات ہیں۔(بحار الأنوار، ج 1، ص 94)

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ آسمان امامت کی دسویں کڑی امام علی النقی الہادی (علیہ السلام)  کی شہادت پرامام عصر (عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف) اور تمام مومنین کی خدمت میں تعزیت اور تسلیت پیش کرتا ہے۔