شہادت امام موسی کاظم (علیہ السلام)

 

اللّٰھم صلِّ علی موسَی بنَ جعفر و... على الْمُعَذَّبِ فِی قَعْرِ السُّجُونِ وَ ظُلَمِ الْمَطَامِیرِ ذِی السَّاقِ الْمَرْضُوضِ بِحَلَقِ الْقُیُودِ

خدایا  موسی ابن جعفر پر  درود  نازل فرما!۔۔۔ قیدخانوں اور تنگ و تاریک کمروں میں اذیتیں اٹھانے والے، ورم زدہ اور زخمی پیروں اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔

امام کاظم (علیہ السلام) کو ظالم اور جابر حاکموں نے متعدد بار مختلف زندانوں میں قید کروایا اور نہایت اذیتیں پہنچائیں، اسی لئے امام (علیہ السلام)کی زیارت میں اس طرح کے جملے ملتے ہیں کہ وہ امام(علیہ السلام) کہ جنکو تاریک زندانوں میں زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا۔ 

ظالم یہ فکر کرتے تھے کہ اللہ کے نور کو خاموش کر سکتے ہیں لیکن یہ اللہ کا وعدہ ہےاور یہ نور ختم نہیں ہو سکتا۔

امام کاظم (علیہ السلام) کو باب الحوائج بھی کہا جاتا ہے یعنی حاجتوں کا دروازہ اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امام ہفتم (علیہ السلام) سے توسل کر کے جو دعا مانگی جائے وہ بہت جلد قبول ہوتی ہے۔

بغداد کے ایک زندان میں آپ کو زہر دے کر شہید کر دیا گیا اور شہادت کے بعد زندانبان نے حکم دیا کہ آپ کا جسم بے جان بغداد کو پل پر رکھ دیا جائے اور ہتھکڑی اور بیڑی سمیت آپ کے جسم اقدس کو پل پر چھوڑ دیا گیا۔

شیعوں کو امام(علیہ السلام)کی شہادت کی اطلاع ملی تو انھوں نے آپ کا جنازہ اٹھایا اور عقیدت و احترام کے ساتھ کاظمین میں سپرد خاک کیا۔

آج امام کاظم (علیہ السلام) کی المناک شہادت کے موقع پرشہر کاظمین کی فضا دلگیر  ہے بلکہ ہر مومن اور  کائنات کا ذرہ ذرہ مغموم ہے ۔

 

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ امام موسی کاظم (علیہ السلام) کی شہادت پر تمام مومنین کو تعزیت پیش کرتا  ہے۔