بسم اللہ الرحمن الرحیم

▪️➖▪️السَّلاَمُ عَلَیْکِ أَیَّتُهَا الْمَظْلُومَة الْمَغْصُوبَة ▪️➖▪️  

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پیغمبر اکرمﷺ و حضرت خدیجہ(علیہا السلام) کی بیٹی، امام علی(علیہ السلام)کی زوجہ اور امام حسن(علیہ السلام)، امام حسین(علیہ السلام)و حضرت زینب(علیہا السلام) کی والدہ ماجدہ ہیں۔

آپ کی ولادت با سعادت20 جمادی الثانی، بعثت  کے پانچویں سال مکہ مکرّمہ  میں ہوئی۔

پیغمبر اکرمﷺ کی شہادت کے فوراً بعد ظالمین نے حضرت فاطمہ(علیہا السلام) کے گھر پر حملہ  کیا جسکے نتیجے میں آپ زخمی ہو گئیں اور آپ کے شکم مبارک میں حضرت محسن (علیہ السلام) کی بھی شہادت ہو گئی۔

مدینہ سوگوار ہے
رسول اکرم ﷺ کی شہادت کو پچھتر دن گزر گئےاور مدینہ کی مسجد سونی ہے۔مومنین حبیب خدا ﷺ کی فراق میں محزون تھے کہ شہر مدینہ میں ایسا ظلم ہوا کہ اگر روشن دن پر یہ ستم ہوتا تو تاریک رات میں بدل جاتا۔ اس شہر کے لوگوں نے ایک بیٹی کو باپ کا غم نہیں منانے دیا، ایسی بیٹی جو سیدہ نساء عالمین تھیں، رسول خداﷺ کی لخت جگر تھیں، جو امیر المومنین(علیہ السلام) کی زوجہ تھیں ، جو جنت کے جوانوں کے سرداروں کی ماں تھیں۔ظلم و ستم کی انتہا اس وقت ہو گئی کہ جب ظالموں  نے خانہ وحی کو نذر آتش کردیا، وہ گھر جہاں وحی نازل ہوتی تھی، وہ دروازہ جہاں جبرئیل امین ادب سے اذن دخول لیتے تھے، وہ مکان جہاں رسول اللہﷺ آکر اشارہ کر کے سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے السلام علیک یا اہل بیت النبوۃ۔۔۔

مادر کی جدائی
مولا علی (علیہ السلام) نےسب کو اکھٹا کیا تاکہ خاتون جنت کے آخری دیدار کریں، ارشاد فرمایا  ام کلثوم، زینب، سکینہ، حسن، حسین، فضہ آو اور الوداع کہو رخصت ہو لو کہ اب تم اپنی ماں سے جنت میں ہی ملاقات کرو گے![ هَلُمُّوا تَزَوَّدُوا مِنْ أُمِّکُمْ فَهَذَا الْفِرَاقُ وَ اللِّقَاءُ فِی الْجَنَّةِ.]

بے چینی کا عالم ہےبچے ماں کے جنازہ سے لپٹ کر رخصت ہو رہے ہیں کہ اسی اثنا  میں ہاتف غیبی نے صدا دی اے ابا الحسن  (علیہ السلام)ملائکہ حسنین (علیہماالسلام) کا گریہ نہیں دیکھ سکتےبچوں کو ماں سے جدا کر دیجئے۔

اہل زمین کے ساتھ اہل آسمان بھی غم گین ہیں، ملائکہ صف لگائے خانہ وحی پر تعزیت کے لئے کھڑے ہیں لیکن حضرت زہرا (علیہا السلام)کی وصیت کے مطابق جنازہ رات کی تاریکی میں اٹھایا جا رہا ہے، امت میں سے بس کچھ کو یہ سعادت ملی کی شہزادی کونین(علیہا السلام) کے جنازہ میں شریک ہو سکیں اور باقی کسی کو اجازت نہیں تھی کیونکہ حضرت زہرا (علیہا السلام) ناراض تھیں۔

اہلیبت(علیہم السلام) کی منزلت

قالَتْ فاطِمَةُ الزَّهْراء سلام اللّه علیها:نَحْنُ وَسیلَتُهُ فی خَلْقِهِ، وَ نَحْنُ خاصَّتُهُ وَ مَحَلُّ قُدْسِهِ، وَ نَحْنُ حُجَّتُهُ فی غَیْبِهِ، وَ نَحْنُ وَرَثَةُ اءنْبیائِهِ.

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌الله‌علیہا نے فرمایا کہ  ہم لوگوں کے لئے اللہ تک جانے کا وسیلہ ہیں، ہم خاصان خدا اوراس کی مقدس منزل  ہیں، ہم اسکی حجت ہیں اور انبیاء کے وارث ہیں۔ (شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج 16، ص 211.)

منتقم (عج)حضرت فاطمہ کا انتظار
آج ہم سب یتیم ہو گئے ، اب یہ اہم نہیں کہ پچھتر دن کی روایت مانی جائے یا پچانوے  دن کی، اہم یہ ہے کہ منتقم خون حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)  امام عصر (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے ظہور کی دعا کریں اور اور تعجیل فرج کے لئے اہتمام کریں تاکہ عدالت قائم ہو سکےظلم و ستم کا اس دنیا سے خاتمہ ہو جائےاور ظالمین کو انکے کیفر کردار تک پہنچا دیا جائے۔