چار  شعبان  سن ۲۶ ہجری کوایک با برکت مولود  نے دنیا میں قدم رکھااور   فداکاری،   شجاعت و   ولایت کےمعنا اور مفہوم کو دنیا والوں کے لئے تازہ کردیا  ۔یہ مولود جناب حضرت   ابو  الفضل  العباس (علیہ السلام) ہیں کہ جو   امام  علی (علیہ السلام) اور جناب   ام  البنین (علیہا السلام) کے فرزند ارجمند ہیں۔

جناب حضرت ابو الفضل العباس (علیہ السلام) تمام ظاہری اور باطنی کمالات کے مالک تھے اور خاندان عصمت و طہارت میں ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں اسی لئے آپ کو   قمر  بنی  ہاشم کا لقب ملا ، یعنی بنی ہاشم کا چاند۔

حضرت ابوالفضل العباس کی سیرت میں علماء نے لکھا ہے کہ:

کان عبّاس ابن امیرالمؤمنین رجلاً جمیلاً وسیماً یرکب الفرس المُطَهّم و رِجْلاهُ یَخُطّان فی الأرض؛

امیر المومنین (علیہ السلام)کے بیٹے عباس نہایت خوبصورت اور رشید مرد تھےاور جب آپ گھوڑے پر سوار ہوتے تھے تو آپ کے پیر زمین پر خط دیتے تھے۔

اگر تاریخ میں کسی کو   مدافع   ولایت کا بہترین نمونہ  عمل دیکھنا ہو تو یقینا جناب ابو الفضل العباس (علیہ السلام)کا نام سر فہرت ہوگا۔بے شک آپ کی والدہ ماجدہ جناب ام البنین(علیہا السلام) نے آپ کی خوب تربیت کی اور آپ کو ولایت مداری کا خوب درس دیا۔

جناب عباس (علیہ السلام) نے اپنی پوری زندگی کے تمام لحظات کو   امام وقت کی خدمت کے لئے وقف کردیا تھا ، امام علی (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر   امام  حسین (علیہ السلام) کی رکاب میں فیض شہادت تک آپ نے رہتی دنیا تک شیعوں کے لئے ولایت کی پیروی کا عظیم درس پیش کیا۔

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ تمام عاشقان اہلبیت (علیہم السلام) کو جناب عباس (علیہ السلام) کی ولادت با سعادت پر تبریک پیش کرتا ہے۔