بسم اللہ الرحمن الرحیم

ماہ رجب کی ۱۳ تاریخ اور ۳۰ عام الفیل کو عرش بریں سے لے کر فرش زمیں تک خوشی کا سما تھا آسمانوں پر ملائکہ اور زمین پر مومنین خوشیاں منا رہےتھے کہ ابوطالب (علیہ السلام) کے گھر میں اسد اللہ الغالب علی بن ابی طالب(علیہ السلام) کی ولادت ہوئی ہے۔

کعبہ کی دیوار پھولےنہ سمائی اور خوشی سے مسکرا کر مولود کعبہ کا استقبال کیا، دیر نہ ہوئی کہ کعبہ میں رکھے ہوئے بت گرنے لگے کیونکہ بت شکن کی آمد  آمد ہے۔ایمان اور ولایت و امامت کی خوشبو سے خانہ کعبہ معطر ہو گیا۔

 ۱۳ رجب، اللہ کے ولی اور رسولﷺ کے وصی امیر المومنین علی بن ابی طالب (علیہ السلام)کی ولادت کا دن ہے کہ جنکی تعریف اور تمجید سے ہر زبان قاصر ہے۔علم کا سمندر، ایمان کا امیر، حق کا معیار،شجاعت کی مثال، حکمت کا چشمہ اور ہدایت کاچراغ جنکے وجود سے ہر موجود فیضیاب ہو رہی ہے۔

مولا علی (علیہ السلام)  کی خانہ کعبہ  میں ولادت ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ جسکو ہر ایک نے مانا ہے اور یہ ایک ایسی فضیلت  ہے کہ نہ کسی کو امام علی (علیہ السلام)سے پہلے ملی اور نہ انکے بعد کسی کو حاصل ہو سکتی ہے۔

حاکم نیشاپوری جو اہل سنت کے بزرگ علما میں شمار ہوتے ہیں اپنی کتاب مستدرک ،ج۳،ص۴۸۳ پر اس حدیث کو باسندو متواتر لکھا ہے کہتے ہیں:

” وَقَد تَوَاتِرَتِ الاَخبٰارُ اَنَّ فَاطِمَۃَ بِنتِ اَسَد (ع) وَلَدَت اَمِیرَ المُومِنِینَ عَلِی ابنُ اَبِی طَالِبٍ کَرَّمَ اللّٰہُ وَجہَہُ فِی جَو فِ الکَعبَۃ “

”امیر المومنین علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہ ،فاطمہ بنت اسدکے بطن مبارک سے خانہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے “

علامہ امینی اپنی کتاب ” الغدیر“ جلد ۶ صفحہ ۲۱ کے بعد حضرت علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کی ولادت کے واقعہ کو کہ خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے ،اہل سنت کی ۲۰ سے زیادہ کتابوں سے ذکر کیا ہے اور شیعوں کی پچاس سے زیادہ کتابوں سے نقل کیا ہے ۔

رسول اکرمﷺ نےفرمایا کہ اگر اس دنیامیں موجود سمندر کا پانی روشنائی بن جائے اور تمام درخت قلم بن جائیں اور تمام انس اور جن مل کر علی (علیہ السلام) کے فضائل کو جمع کرنا چاہیں تب بھی فضائل جمع نہیں ہو سکتے۔

 قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ : عَلِيٌّ خَيْرُ اَلْبَشَرِ فَمَنْ أَبَى فَقَدْ كَفَرَ

علی بہترین انسان ہیں اور جسنے اس حقیقت کو نہیں مانا وہ  بے شک کافرہے۔(المناقب  ,  جلد۳  ,  صفحہ۶۷)

امام صادق (علیہ السلام) آنلائن مدرسہ تمام مسلمانوں کی خدمت میں اس پر مسرت دن کی تبریک و تہنیت پیش کرتا ہے۔