بسم اللہ الرحمن الرحیم

آسمان ولایت کے نویں خورشید تابان امام محمد تقی (علیہ السلام)  کی پر مسرت ولادت سے سلسلہ امامت مزید نورانی ہو گیا اور شک و شبہات کی گمراہ کن فضاجو دشمنوں نے بنائی تھی ختم ہو گئی جسکے نتیجہ میں واقفیہ جیسے فرقہ ختم ہوتے گئے۔

بابرکت فرزند

ابو یحییٰ صناعی جو کہ امام رضا (علیہ السلام) کے انصار میں سے تھے، نقل فرماتے ہیں:ایک دن میں امام رضا (علیہ السلام) کی خدمت میں تھا کہ امام (علیہ السلام) نے اپنے کم سن فرزند امام محمد تقی الجواد (علیہ السلام) کو بلایا اور فرمایا

هذَا الْمَوْلُودُ الَّذی لَمْ یُولَدْ مُوْلُودٌ اَعْظَمُ بَرَکَةً عَلی شیعَتِنا مِنْهُ (1)

یہ فرزند بہت با برکت ہے اور اس سے زیادہ با برکت میرے شیعوں کے لئے کوئی نہیں ہے۔

 مقام امامت

امام محمد تقی (علیہ السلام) تنہا امام ہیں جو کم سنی کے عالم میں مقام امامت پر فائز ہوئے اور آپ(علیہ السلام) کے دشمنوں نے کمسنی کو بہانہ بنا کر اعتراضات اور شبہات  ڈالنا شروع کئےتاکہ آپ کی امامت کے بارے میں لوگ شک کرنے لگیں، لیکن آپ(علیہ السلام) کے علم کا کمال یہ تھا کہ دشمن بھی اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئےاور آپ (علیہ السلام)کی عظمت و مقام امامت کے قائل ہو گئے۔

مامون عباسی نے امام محمد تقی (علیہ السلام) سے دشمنی میں کوئی کسر نہیں  چھوڑی اور ہر قدم پر مکاری سے کام لیتا رہا یہاں  تک کہ مختلف مذہبوں اور فرقوں کے بزرگ علماء  سے مناظرے کروائے لیکن وہ اپنے ناپاک منسوبوں میں ناکام رہا اور امام محمد (علیہ السلام) نےکمسنی میں اپنے علم سے لوگوں کو مبہوت کردیااور دشمن ناکام رہے۔

جب بنی عباس کے بزگوں  نے مامون پر اعتراض کیا تو اسنے جواب میں کہا کہ میں نے اپنی بیٹی ام الفضل کی شادی محمد بن علی (علیہ السلام) سے اس لئے کی ہے کہ میں نے انکوکمسنی کے باوجود تمام اہل علم و فضل سے زیادہ بافضیلت پایا۔ (2)

 قال الامام الجواد علیه‌السلام: اَلْمُؤْمِنُ یَحْتاجُ اِلی ثَلاثِ خِصالٍ تَوْفیقٍ مِنَ اللّه ِ وواعظٍ مِنْ نَفْسِهِ وَقَبُولٍ مِمَّنْ یَنْصَحُهُ.

امام محمد تقی علیہ السلام نے فرمایا مومن کو تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے،اللہ کی جانب سے توفیق،اپنے نفس کی طرف سےوعظ اور دوسروں کی نصیحت کو قبول کرنا۔(3)

 ---------------------------------

1- اصول کافی، ج 1، ص 321.

2- موسوعۃ الامام الجواد (ع)، ج 1، ص 360- 363.

3-بحارالانوار، ج 75، ص 358